نکلے نہیں ہیں یادوں کی جب کہکشاں سے ہم
نکلے نہیں ہیں یادوں کی جب کہکشاں سے ہم
پھر کیا گلا کریں گے بھلا اس جہاں سے ہم
آگے نکل چکے ہیں یوں سود و زیاں سے ہم
ڈرتے نہیں ہیں آپ کے تیر و کماں سے ہم
دراصل ہم خفا ہیں خود اپنی ہی ذات سے
شکوہ کناں نہیں ہیں زمیں آسماں سے ہم
اب تک یہ دل یقیں کے سفر پر ہے گامزن
باہر نکل تو آئے ہیں وہم و گماں سے ہم
تم سے بچھڑ کے خود کو سنبھالا نہ جائے گا
لائیں گے اتنا حوصلہ ہمت کہاں سے ہم
پہنچے تھے جد و جہد سے منزل کے عنقریب
اب کیا بتائیں لوٹے ہیں کیسے وہاں سے ہم
میناؔ اگر نصیب میں غم ہیں لکھے ہوئے
تم ہی بتاؤ لائیں گے خوشیاں کہاں سے ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.