Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہوئی نہ راہ میں حائل شکستہ پائی مری

قتیل شفائی

ہوئی نہ راہ میں حائل شکستہ پائی مری

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    ہوئی نہ راہ میں حائل شکستہ پائی مری

    قتیلؔ اب بھی ہے اک شخص تک رسائی مری

    اچھالتے ہیں مرے ذکر سے وہ نام اپنا

    پسند ہے مرے یاروں کو ہر برائی مری

    گنوا رہا تھا میں کتنے ثواب دنیا کے

    جناب عشق نے کی آ کے پیشوائی مری

    اب اور لوگوں میں جائے وہ غم غلط کرنے

    سنا ہے اس کو گوارا نہیں جدائی مری

    ہزار بار جو بدنام کر چکا ہے مجھے

    پھر اس کی کھوج میں نکلی ہے پارسائی مری

    بھٹک رہا ہوں میں اک منزل زیاں کے لیے

    کرو گے راہزنو تم ہی رہنمائی مری

    تمام بھید مری زندگی کے کھول دیے

    جو مطربہ نے کسی کو غزل سنائی مری

    بس ایک بار شکن پڑ گئی تھی ماتھے پر

    منانے مجھ کو جوانی کبھی نہ آئی مری

    قتیلؔ شکر کروں جب بھی مجھ پہ تیر چلے

    بہ فیض عشق طبیعت ہے کربلائی مری

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے