ہوئی نہ راہ میں حائل شکستہ پائی مری
ہوئی نہ راہ میں حائل شکستہ پائی مری
قتیلؔ اب بھی ہے اک شخص تک رسائی مری
اچھالتے ہیں مرے ذکر سے وہ نام اپنا
پسند ہے مرے یاروں کو ہر برائی مری
گنوا رہا تھا میں کتنے ثواب دنیا کے
جناب عشق نے کی آ کے پیشوائی مری
اب اور لوگوں میں جائے وہ غم غلط کرنے
سنا ہے اس کو گوارا نہیں جدائی مری
ہزار بار جو بدنام کر چکا ہے مجھے
پھر اس کی کھوج میں نکلی ہے پارسائی مری
بھٹک رہا ہوں میں اک منزل زیاں کے لیے
کرو گے راہزنو تم ہی رہنمائی مری
تمام بھید مری زندگی کے کھول دیے
جو مطربہ نے کسی کو غزل سنائی مری
بس ایک بار شکن پڑ گئی تھی ماتھے پر
منانے مجھ کو جوانی کبھی نہ آئی مری
قتیلؔ شکر کروں جب بھی مجھ پہ تیر چلے
بہ فیض عشق طبیعت ہے کربلائی مری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.