ٹوٹی پھوٹی شاخوں میں جو اٹکے اٹکے پر ہوتے ہیں
ٹوٹی پھوٹی شاخوں میں جو اٹکے اٹکے پر ہوتے ہیں
پیڑوں کی فریاد بھی سن لو پیڑوں پر بھی گھر ہوتے ہیں
باتیں اس کو پہنچ گئی ہوں اس کو باتیں پہنچ نہ جائیں
ہائے محبت عہد میں تیرے کیسے کیسے ڈر ہوتے ہیں
غم تنہا جب بھی دیکھے گا حملہ آور ہو جائے گا
تلواریں بھی تب چلتی ہیں جب ہم ننگے سر ہوتے ہیں
یاروں کی محفل سے اچھی اک محفل وہ بھی ہوتی ہے
تنہائی کی آوازوں میں شام کو جب ہم گھر ہوتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.