سارے موسم تو گئے خشک بنا کر مجھ کو
سارے موسم تو گئے خشک بنا کر مجھ کو
تو بہاروں کا خدا ہے تو ہرا کر مجھ کو
دیر سے گم ہوں میں بچپن کے گھنے جنگل میں
لے گئی تتلی کہاں ساتھ اڑا کر مجھ کو
جل رہا ہوں میں ترے ہاتھ میں مشعل کی طرح
تو بھی گھر جائے گا ظلمت میں بجھا کر مجھ کو
جب تعلق ہی نہیں کوئی مرا ساحل سے
چاہے لے جائے جہاں لہر بہا کر مجھ کو
زرد پڑ جائے گی رنگت مری پل دو پل میں
کیا ملے گا تجھے کمرے میں سجا کر مجھ کو
خود بہ خود سوکھ کے گر جاؤں گا خاورؔ میں بھی
ایک دن اور نہ ٹہنی سے جدا کر مجھ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.