Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بنا دی قوم کی کیا شکل پہچانی نہیں جاتی

ضامن جعفری

بنا دی قوم کی کیا شکل پہچانی نہیں جاتی

ضامن جعفری

MORE BYضامن جعفری

    بنا دی قوم کی کیا شکل پہچانی نہیں جاتی

    مگر ظرف سیاست تیری ارزانی نہیں جاتی

    ستم لوگوں کا ہو لوگوں پہ ہو لوگوں کی خاطر ہو

    یہ ہے جمہوریت تو ہم سے پہچانی نہیں جاتی

    وہ سب سے پوچھتے ہیں ہو گئی کیا کچھ خطا ہم سے

    ادا اپنی جگہ ہے ان کی نادانی نہیں جاتی

    امیر کارواں یہ کارواں منزل کا خواہاں ہے

    مگر در در کی اس سے خاک اب چھانی نہیں جاتی

    وہ لوٹے جا رہے ہیں لوٹنے کو لوٹ کی جانب

    حقیقت ہے بری عادت بہ آسانی نہیں جاتی

    سیاست ہو کہ جنگل یا کسی سرکس کا پنجرا ہو

    کہیں ہو شیر اس کی خوئے حیوانی نہیں جاتی

    مجھے تو چار دن کی چاندنی کے بعد کا ڈر ہے

    اندھیری رات کی ہمدم پریشانی نہیں جاتی

    مرا دل ووٹ دے دیتا ہے ان کی مسکراہٹ کو

    جہاں جیتے پھر ان کی حشر سامانی نہیں جاتی

    بھلا ضامنؔ دیا ہی کیوں تھا بھاری مینڈیٹ ان کو

    وہ من موجی ہیں من لے لیں تو من مانی نہیں جاتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے