بنا دی قوم کی کیا شکل پہچانی نہیں جاتی
بنا دی قوم کی کیا شکل پہچانی نہیں جاتی
مگر ظرف سیاست تیری ارزانی نہیں جاتی
ستم لوگوں کا ہو لوگوں پہ ہو لوگوں کی خاطر ہو
یہ ہے جمہوریت تو ہم سے پہچانی نہیں جاتی
وہ سب سے پوچھتے ہیں ہو گئی کیا کچھ خطا ہم سے
ادا اپنی جگہ ہے ان کی نادانی نہیں جاتی
امیر کارواں یہ کارواں منزل کا خواہاں ہے
مگر در در کی اس سے خاک اب چھانی نہیں جاتی
وہ لوٹے جا رہے ہیں لوٹنے کو لوٹ کی جانب
حقیقت ہے بری عادت بہ آسانی نہیں جاتی
سیاست ہو کہ جنگل یا کسی سرکس کا پنجرا ہو
کہیں ہو شیر اس کی خوئے حیوانی نہیں جاتی
مجھے تو چار دن کی چاندنی کے بعد کا ڈر ہے
اندھیری رات کی ہمدم پریشانی نہیں جاتی
مرا دل ووٹ دے دیتا ہے ان کی مسکراہٹ کو
جہاں جیتے پھر ان کی حشر سامانی نہیں جاتی
بھلا ضامنؔ دیا ہی کیوں تھا بھاری مینڈیٹ ان کو
وہ من موجی ہیں من لے لیں تو من مانی نہیں جاتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.