کیا اس کے سوا قیمتی شے مانگتی رب سے
کیا اس کے سوا قیمتی شے مانگتی رب سے
اس نے ہی نوازا مجھے اماں کے لقب سے
دھوکا کبھی آنسو تو کبھی رنج و مصیبت
اللہ بچائے ہمیں دنیا کی طلب سے
جس نے کبھی دیکھا نہیں قدرت کا کرشمہ
ہوتا ہے پریشان وہ قدرت کے غضب سے
جو چاہیئے وہ آپ ستم کیجئے مجھ پر
نکلے گا نہ اک لفظ کبھی میرے بھی لب سے
برباد ہوا امن و سکوں میرے نگر کا
کچھ لوگ سیاست یہاں کرنے لگے جب سے
اصلاح سے ہی آتی ہے کردار میں خوشبو
کم ظرف ہیں جو جلتے ہیں اصلاح ادب سے
دولت نہیں شہرت نہیں عزت نہیں روبیؔ
اس زندگی میں نور ہے الفت کے سبب سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.