گفت و شنید کار دل ایسے نہ آئنہ کرو
گفت و شنید کار دل ایسے نہ آئنہ کرو
خود سے تمام شب ملو خود سے ہی مشورہ کرو
جاؤ کہیں نہ پوچھنے راز صفات عشق کو
دل کے معاملات ہیں دل ہی سے ابتدا کرو
کیسی روش ہے عشق کی کیسا چلن ہے حسن کا
کتنی عجیب بات ہے رسماً کوئی گلہ کرو
ترک تعلقات کا یہ بھی تو اک اصول ہے
اس کو بھلا چکے ہو گر یادوں کو بھی خفا کرو
وہ جو شہید ناز ہے اس کی انا کے واسطے
غم کی مناؤ عید تم رونے کا حوصلہ کرو
آواز آ رہی ہے یہ چلنا ہے ساتھ ساتھ تو
پلکیں بھگو بھگو رکھو آنکھوں سے التجا کرو
رنگ جہاں کے رنگ میں رہنا ہے تم کو رات دن
کوئی تو مشغلہ رکھو کوئی تو فیصلہ کرو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.