Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گفت و شنید کار دل ایسے نہ آئنہ کرو

نورین فیض آبادی

گفت و شنید کار دل ایسے نہ آئنہ کرو

نورین فیض آبادی

MORE BYنورین فیض آبادی

    گفت و شنید کار دل ایسے نہ آئنہ کرو

    خود سے تمام شب ملو خود سے ہی مشورہ کرو

    جاؤ کہیں نہ پوچھنے راز صفات عشق کو

    دل کے معاملات ہیں دل ہی سے ابتدا کرو

    کیسی روش ہے عشق کی کیسا چلن ہے حسن کا

    کتنی عجیب بات ہے رسماً کوئی گلہ کرو

    ترک تعلقات کا یہ بھی تو اک اصول ہے

    اس کو بھلا چکے ہو گر یادوں کو بھی خفا کرو

    وہ جو شہید ناز ہے اس کی انا کے واسطے

    غم کی مناؤ عید تم رونے کا حوصلہ کرو

    آواز آ رہی ہے یہ چلنا ہے ساتھ ساتھ تو

    پلکیں بھگو بھگو رکھو آنکھوں سے التجا کرو

    رنگ جہاں کے رنگ میں رہنا ہے تم کو رات دن

    کوئی تو مشغلہ رکھو کوئی تو فیصلہ کرو

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے