دوسری بار ہمیں نیند کی مہلت نہ ملی
دوسری بار ہمیں نیند کی مہلت نہ ملی
ایک ہی خواب کی تعبیر سے فرصت نہ ملی
اس لیے جلد جوانی میں سنبھل پائے نہیں
ہمیں بچپن میں بزرگوں سے نصیحت نہ ملی
تیری آنکھوں سی کہیں آنکھیں بنائی نہ گئیں
تیری صورت سے کسی شخص کی صورت نہ ملی
اس نظارے سے ترے لوگ فقط واقف ہیں
جس نے دیکھا نہیں تجھ کو اسے حیرت نہ ملی
تھک کے آخر کو وہ اک شاخ پہ آ بیٹھا ہے
اس پرندے کو کوئی ڈھنگ کی جب چھت نہ ملی
ہم نے چاہا تھا دل و جان لٹا دیں عاطفؔ
اور ہمیں عشق میں اتنی بھی سہولت نہ ملی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.