Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دوسری بار ہمیں نیند کی مہلت نہ ملی

ﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

دوسری بار ہمیں نیند کی مہلت نہ ملی

ﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

MORE BYﻋﺎطف رﺋﯾس ﺻدﯾﻘﯽ

    دوسری بار ہمیں نیند کی مہلت نہ ملی

    ایک ہی خواب کی تعبیر سے فرصت نہ ملی

    اس لیے جلد جوانی میں سنبھل پائے نہیں

    ہمیں بچپن میں بزرگوں سے نصیحت نہ ملی

    تیری آنکھوں سی کہیں آنکھیں بنائی نہ گئیں

    تیری صورت سے کسی شخص کی صورت نہ ملی

    اس نظارے سے ترے لوگ فقط واقف ہیں

    جس نے دیکھا نہیں تجھ کو اسے حیرت نہ ملی

    تھک کے آخر کو وہ اک شاخ پہ آ بیٹھا ہے

    اس پرندے کو کوئی ڈھنگ کی جب چھت نہ ملی

    ہم نے چاہا تھا دل و جان لٹا دیں عاطفؔ

    اور ہمیں عشق میں اتنی بھی سہولت نہ ملی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے