ہزاروں چہروں پہ چہرے نقاب کی صورت
ہزاروں چہروں پہ چہرے نقاب کی صورت
میں پڑھ سکا نہ کسی کو کتاب کی صورت
جلوں گا کتنے دنوں عارضوں کے سورج میں
کبھی تو زلف بھی بکھرے سحاب کی صورت
مرے سوال کو ہی کہہ دیا غلط اس نے
نظر نہ آئی اسے جب جواب کی صورت
یہ کرب عالم برزخ اٹھاؤ حشر کوئی
نکالو جلد کوئی احتساب کی صورت
زباں کو لاکھ بنائیں حریف دل لیکن
ہے ترجمان حقیقت جناب کی صورت
شفیقؔ چھوڑ چکا ہے کبوترانہ مزاج
جھپٹ سکو گے نہ اب تم عقاب کی صورت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.