دیتا نہیں ہے وقت یہ سوغات بارہا
دیتا نہیں ہے وقت یہ سوغات بارہا
ہوتی رہے جو ان سے ملاقات بارہا
کیسے ملے سکون کہاں جائیں کیا کریں
بے چین کر رہی ہے یہی بات بارہا
آسیب کی ہو جیسے حویلی مرا دماغ
لاتے ہیں شعر غیب سے جنات بارہا
نیندوں کو توڑ دیتی ہے خوابوں کی سرکشی
خوابوں کو توڑ دیتے ہیں خدشات بارہا
اللہ نعمتوں سے نوازے تو شکر کر
ہوتی نہیں ہر ایک پہ برسات بارہا
بس ایک ہی نقاب ہو چہرے پہ آپ کے
دیکھے گا کون ایسے طلسمات بارہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.