ایسی ضیا کہاں ہے شب ماہتاب میں
ایسی ضیا کہاں ہے شب ماہتاب میں
پوشیدہ ہے جو نور کسی کے نقاب میں
نغمہ سرا ہو کوئی تو دل کے رباب میں
یہ خواب دیکھتی ہوں میں ہر ایک خواب میں
دیکھا ہے تم نے شعلہ کبھی کوئی آب میں
شامل تھا اس کا پیار بھی اس کے عتاب میں
دے کر جواب ان کے سلام و پیام کا
کر لی ہے اپنی جان ہمیں نے عذاب میں
رکھے تھے ہم نے دل کے دفاتر کھلے ہوئے
داخل ہوا نہ کوئی محبت کے باب میں
کیوں حشر سا بپا ہے مرے دل میں جا بجا
کس نے قدم رکھا ہے یہ دل کی رکاب میں
فرط خوشی سے مر ہی نہ جاؤں کہیں قمرؔ
تصویر اس نے بھیج دی خط کے جواب میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.