اب کے چلی ہے کیسی ہوا تیرے شہر میں
اب کے چلی ہے کیسی ہوا تیرے شہر میں
ہر چہرہ ہے نقاب نما تیرے شہر میں
ہر شخص کر رہا ہے محبت کا کاروبار
پھرتی ہے سر برہنہ وفا تیرے شہر میں
ہر عندلیب راز ہے منقار زیر پا
ملتا نہیں ہے اذن نوا تیرے شہر میں
اے شہر یار ناز تری دلکشی کی خیر
ہر آئنہ ہے ہوش ربا تیرے شہر میں
یہ راز کیا ہے اہل شعور و نگاہ بھی
صرصر کو کہہ رہے ہیں صبا تیرے شہر میں
اب کس کے در پہ جا کے پناہیں طلب کریں
ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں
جذبیؔ اسی خیال سے مقتل میں آ گیا
پاتا ہے بے گناہ سزا تیرے شہر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.