کب کہا چلبلی سی لڑکی ہوں
کب کہا چلبلی سی لڑکی ہوں
میں تو اک واجبی سی لڑکی ہوں
یار نفرت ہو یا محبت ہو
ہر جگہ شدتی سی لڑکی ہوں
جون پڑھتی ہوں اس لیے شاید
اپنے اندر چھپی سی لڑکی ہوں
چھوڑ دی گر تو مل نہ پائے گی
عشق میں بندگی سی لڑکی ہوں
مستقل بولتے ہوئے لڑکے
مستقل سوچتی سی لڑکی ہوں
میں کوئی داستاں بنوں کیسے
ان کہی ان سنی سی لڑکی ہوں
تم سخنور تو جانتے ہو مجھے
نظم سی شاعری سی لڑکی ہوں
تو مزاجاً شریف زادہ ہے
اور میں سر پھری سی لڑکی ہوں
تلخ لہجوں کے وار سے زوبیؔ
ہر گھڑی ٹوٹتی سی لڑکی ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.