ہر ایک شخص زبان بیاں لگے ہے میاں
ہر ایک شخص زبان بیاں لگے ہے میاں
یہاں تو ہر کوئی اک داستاں لگے ہے میاں
نفس نفس ہے نئی آزمائشوں کا صلیب
یہ زندگی بھی ہمیں امتحاں لگے ہے میاں
ہر ایک در پہ یہاں نفرتوں کے پہرے ہیں
ہمارا گاؤں ہمارا کہاں لگے ہے میاں
روش روش پہ سلگتے ہیں فتنہ گر کانٹے
ابھی کہاں یہ چمن گلستاں لگے ہے میاں
مخالفت سے بھی ہے سخت زخم یاری کا
بہت ہی گہرا لگے ہے جہاں لگے ہے میاں
کسی کے ساتھ جو اک پل میں کٹ گئی تھی کل
وہ رات آج بہت ہی گراں لگے ہے میاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.