Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اور بھی کچھ لوگ کرب زیست سے ہارے لگے

ظفر مرزاپوری

اور بھی کچھ لوگ کرب زیست سے ہارے لگے

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    اور بھی کچھ لوگ کرب زیست سے ہارے لگے

    کچھ ہمیں تنہا نہیں حالات کے مارے لگے

    بارہا ایسا ہوا آنکھیں ہی دھوکا کھا گئیں

    پھول بیلے کے کھلے تھے اور مجھے تارے لگے

    بات جو دل میں تھی چہرہ بھی تھا اس کا آئنہ

    دوستوں سے بھی کبھی دشمن مرے پیارے لگے

    کیفیت دل پر مرے کچھ ایسی طاری ہو گئی

    شاخ پر جب خوبصورت پھول انگارے لگے

    نام پر مذہب کے پھیلاتے ہیں ہم نفرت کی آگ

    ہم مہذب شہریوں سے اچھے بنجارے لگے

    یوں دل ناداں مچل اٹھتا ہے بچوں کی طرح

    ہر تمنا جیسے دل کو اڑتے غبارے لگے

    ہم سجا کر یہ جریدے گھر میں رکھتے ہیں ظفرؔ

    مثل دولت ہم قلم کاروں کو فن پارے لگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے