اور بھی کچھ لوگ کرب زیست سے ہارے لگے
اور بھی کچھ لوگ کرب زیست سے ہارے لگے
کچھ ہمیں تنہا نہیں حالات کے مارے لگے
بارہا ایسا ہوا آنکھیں ہی دھوکا کھا گئیں
پھول بیلے کے کھلے تھے اور مجھے تارے لگے
بات جو دل میں تھی چہرہ بھی تھا اس کا آئنہ
دوستوں سے بھی کبھی دشمن مرے پیارے لگے
کیفیت دل پر مرے کچھ ایسی طاری ہو گئی
شاخ پر جب خوبصورت پھول انگارے لگے
نام پر مذہب کے پھیلاتے ہیں ہم نفرت کی آگ
ہم مہذب شہریوں سے اچھے بنجارے لگے
یوں دل ناداں مچل اٹھتا ہے بچوں کی طرح
ہر تمنا جیسے دل کو اڑتے غبارے لگے
ہم سجا کر یہ جریدے گھر میں رکھتے ہیں ظفرؔ
مثل دولت ہم قلم کاروں کو فن پارے لگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.