ناخدا کو نہ پکارا یہ خطا لے ڈوبی
ناخدا کو نہ پکارا یہ خطا لے ڈوبی
ہم کو طوفان میں خود اپنی انا لے ڈوبی
ہیں صلیبوں پہ کبھی اور کبھی تیروں کا ہدف
ہم وفادار تھے تو ہم کو وفا لے ڈوبی
جو کبھی غیر کے آنگن کو ضیا دے نہ سکے
ان چراغوں کو زمانے کی ہوا لے ڈوبی
اس کی زلفوں میں گرفتار ہوئے ہیں کتنے
ہائے دیوانوں کو زنجیر بلا لے ڈوبی
کرنے آئے تھے محبت کے مریضوں کا علاج
خود طبیبوں کو مریضوں کی ادا لے ڈوبی
راہ میں چھوڑ کے مجھ کو وہ بھٹکتا ہی رہا
دیکھو ظالم کو مری آہ و بکا لے ڈوبی
اس بلندی پہ تھا میں ہو گئی دنیا حاسد
مجھ کو کوثرؔ یہ مری فکر رسا لے ڈوبی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.