Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ چشم تر بتاتی ہے نہ زخم سر بتاتے ہیں

خوشبیر سنگھ شادؔ

نہ چشم تر بتاتی ہے نہ زخم سر بتاتے ہیں

خوشبیر سنگھ شادؔ

نہ چشم تر بتاتی ہے نہ زخم سر بتاتے ہیں

وہ اک روداد جو سہمے ہوئے یہ گھر بتاتے ہیں

میں اپنے آنسوؤں پر اس لئے قابو نہیں رکھتا

کہ میرے دل کی حالت مجھ سے یہ بہتر بتاتے ہیں

انہیں دل کی صداؤں پر بھلا کیسے یقیں ہوگا

یہ آنکھیں تو وہی سنتی ہیں جو منظر بتاتے ہیں

یقیناً پھر کسی نے جرأت پرواز کی ہوگی

یہاں چاروں طرف بکھرے ہوئے یہ پر بتاتے ہیں

کہاں گم ہو گیا ہے راستے میں وہ مسافر بھی

نہ کچھ رہزن بتاتے ہیں نہ کچھ رہبر بتاتے ہیں

ذرا یہ دھوپ ڈھل جائے تو ان کا حال پوچھیں گے

یہاں کچھ سائے اپنے آپ کو پیکر بتاتے ہیں

تجھے بھی شادؔ اپنی ذات سے باہر نکلنا ہے

صدف کی قید سے نکلے ہوئے گوہر بتاتے ہیں

مأخذ :
  • کتاب : Zara ye Dhoop Dhal Jaye (Pg. 9)
  • Author : Khushbir Singh Shaad
  • مطبع : Suman Parkashan, Bhadoriya Complex, Lucknow (2005)
  • اشاعت : 2005

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے