جو شاخ سے اڑا ہے وہ طائر نظر میں ہے
جو شاخ سے اڑا ہے وہ طائر نظر میں ہے
بے خواب بستیوں کا مسافر نظر میں ہے
ڈھونڈوں اسے کہاں جو رگ و پے میں ڈھل گیا
دیکھوں اسے کدھر جو بظاہر نظر میں ہے
اس سے جدا ہوئے کئی صدیاں ہوئیں مگر
اب تک وہی تعلق خاطر نظر میں ہے
اے یاد شام درد جدائی ذرا ٹھہر
مدت کے بعد آج کوئی پھر نظر میں ہے
یوں رقص میں خوشی سے ہے سیارۂ زمیں
جیسے کوئی خلا کا مسافر نظر میں ہے
محسنؔ ہو زندگی سے مجھے انس کس طرح
اس بیسوا کا اول و آخر نظر میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.