اس سے پرسوز ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو
اس سے پرسوز ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو
دل میں جذبوں کی یہ بہتات کبھی ہو کہ نہ ہو
آ مری جان کہ مر جاؤں میں تیرا ہو کر
پھر مقدر میں کوئی ذات کبھی ہو کہ نہ ہو
صفحۂ دل پہ رقم نام ہو اس کے میرا
خوش نصیبی مری اوقات کبھی ہو کہ نہ ہو
ڈوب جاؤں گی ترے وصل کا ارماں لے کر
ساحل دل پہ ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو
آ مری جان مری جان لٹا دوں تجھ پر
تیرے صدقے کو یہ خیرات کبھی ہو کہ نہ ہو
مجھ کو آ ہی گیا اشعار و تکلم جاناں
خیر اب تجھ سے مری بات کبھی ہو کہ نہ ہو
تشنگی اپنی بجھا لیتے ہیں آنسو پی کر
میرے حصے کی وہ برسات کبھی ہو کہ نہ ہو
اے قمرؔ آخری شب ہے یہ ٹھہر جا کچھ پل
زندگی میں شب بارات کبھی ہو کہ نہ ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.