Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اس سے پرسوز ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو

ثمینہ قمر

اس سے پرسوز ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو

ثمینہ قمر

MORE BYثمینہ قمر

    اس سے پرسوز ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو

    دل میں جذبوں کی یہ بہتات کبھی ہو کہ نہ ہو

    آ مری جان کہ مر جاؤں میں تیرا ہو کر

    پھر مقدر میں کوئی ذات کبھی ہو کہ نہ ہو

    صفحۂ دل پہ رقم نام ہو اس کے میرا

    خوش نصیبی مری اوقات کبھی ہو کہ نہ ہو

    ڈوب جاؤں گی ترے وصل کا ارماں لے کر

    ساحل دل پہ ملاقات کبھی ہو کہ نہ ہو

    آ مری جان مری جان لٹا دوں تجھ پر

    تیرے صدقے کو یہ خیرات کبھی ہو کہ نہ ہو

    مجھ کو آ ہی گیا اشعار و تکلم جاناں

    خیر اب تجھ سے مری بات کبھی ہو کہ نہ ہو

    تشنگی اپنی بجھا لیتے ہیں آنسو پی کر

    میرے حصے کی وہ برسات کبھی ہو کہ نہ ہو

    اے قمرؔ آخری شب ہے یہ ٹھہر جا کچھ پل

    زندگی میں شب بارات کبھی ہو کہ نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے