دل وہی عہد ملاقات پرانا چاہے
دل وہی عہد ملاقات پرانا چاہے
اور زمانہ کہ پلٹ کر ہی نہ آنا چاہے
وہ تو ہر حال میں دوری ہی بڑھانا چاہے
اب کسی حد پہ ٹھہر جائے زمانا چاہے
وہ عجب شخص ہے انداز عجب ہیں اس کے
کھنچتا بھی جائے مراسم بھی بڑھانا چاہے
دیکھ کر اس کو زمانے کی طرف کیا دیکھیں
جو وہ چاہے وہی بے درد زمانہ چاہے
اس کے پندار کا کیا پوچھنا جو مست غرور
کم نگاہی کا بھی احسان جتانا چاہے
سادگی میں بھی ہے اس غیرت گلشن کا وہ رنگ
خود بہار اس کا حسیں رنگ چرانا چاہے
کبھی بے بات شکایت کبھی بے وجہ سکوت
وہ تو بس ترک محبت کا بہانہ چاہے
سایۂ زلف نہیں سایۂ دیوار سہی
کوئی گوشہ ہو مسافر تو ٹھکانا چاہے
یہ عجب صورت گلشن ہے عجب رنگ بہار
پھول خود پھول سے دامن کو چھڑانا چاہے
گر نہ جائے کہیں ایمان و یقیں کی دیوار
آدمی سائے کو دیوار بنانا چاہے
ہونٹ ساکت ہیں دل افسردہ ہے آنکھیں بے آب
زندگی تو مجھے پتھر ہی بنانا چاہے
آئے جس غنچے سے آواز شناسا اقبالؔ
دل اس آواز کو تصویر بنانا چاہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.