Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل وہی عہد ملاقات پرانا چاہے

اقبال صفی پوری

دل وہی عہد ملاقات پرانا چاہے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    دل وہی عہد ملاقات پرانا چاہے

    اور زمانہ کہ پلٹ کر ہی نہ آنا چاہے

    وہ تو ہر حال میں دوری ہی بڑھانا چاہے

    اب کسی حد پہ ٹھہر جائے زمانا چاہے

    وہ عجب شخص ہے انداز عجب ہیں اس کے

    کھنچتا بھی جائے مراسم بھی بڑھانا چاہے

    دیکھ کر اس کو زمانے کی طرف کیا دیکھیں

    جو وہ چاہے وہی بے درد زمانہ چاہے

    اس کے پندار کا کیا پوچھنا جو مست غرور

    کم نگاہی کا بھی احسان جتانا چاہے

    سادگی میں بھی ہے اس غیرت گلشن کا وہ رنگ

    خود بہار اس کا حسیں رنگ چرانا چاہے

    کبھی بے بات شکایت کبھی بے وجہ سکوت

    وہ تو بس ترک محبت کا بہانہ چاہے

    سایۂ زلف نہیں سایۂ دیوار سہی

    کوئی گوشہ ہو مسافر تو ٹھکانا چاہے

    یہ عجب صورت گلشن ہے عجب رنگ بہار

    پھول خود پھول سے دامن کو چھڑانا چاہے

    گر نہ جائے کہیں ایمان و یقیں کی دیوار

    آدمی سائے کو دیوار بنانا چاہے

    ہونٹ ساکت ہیں دل افسردہ ہے آنکھیں بے آب

    زندگی تو مجھے پتھر ہی بنانا چاہے

    آئے جس غنچے سے آواز شناسا اقبالؔ

    دل اس آواز کو تصویر بنانا چاہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے