Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہا جو ہم نے ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو

نظیر اکبرآبادی

کہا جو ہم نے ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو

نظیر اکبرآبادی

MORE BYنظیر اکبرآبادی

    کہا جو ہم نے ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو

    کہا کہ اس لیے تم یاں جو غل مچاتے ہو

    کہا لڑاتے ہو کیوں ہم سے غیر کو ہمدم

    کہا کہ تم بھی تو ہم سے نگہ لڑاتے ہو

    کہا جو حال دل اپنا تو اس نے ہنس ہنس کر

    کہا غلط ہے یہ باتیں جو تم بناتے ہو

    کہا جتاتے ہو کیوں ہم سے روز ناز و ادا

    کہا کہ تم بھی تو چاہت ہمیں جتاتے ہو

    کہا کہ عرض کریں ہم پہ جو گزرتا ہے

    کہا خبر ہے ہمیں کیوں زباں پہ لاتے ہو

    کہا کہ روٹھے ہو کیوں ہم سے کیا سبب اس کا

    کہا سبب ہے یہی تم جو دل چھپاتے ہو''

    کہا کہ ہم نہیں آنے کے یاں تو اس نے نظیرؔ

    کہا کہ سوچو تو کیا آپ سے تم آتے ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے