Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مجھ سے یہ مت پوچھو کیا ان آنکھوں کی بیماری ہے

راہی معصوم رضا

مجھ سے یہ مت پوچھو کیا ان آنکھوں کی بیماری ہے

راہی معصوم رضا

MORE BYراہی معصوم رضا

    مجھ سے یہ مت پوچھو کیا ان آنکھوں کی بیماری ہے

    چمپے جیسی رنگت والی وہ اک سندر ناری ہے

    ململ کی ساری ہے تن پر ہاتھوں میں پچکاری ہے

    ہم نے سنا ہے اس کی گلی میں ہولی کی تیاری ہے

    اس کے گلابی رخساروں پر پھیلی بوند پسینے کی

    یا کچنار کے دامن پر یہ اوس کی ہلکی دھاری ہے

    ہونٹوں میں سورج بیٹھا ہے رات اتری ہے بالوں میں

    آنکھوں میں گہرا کاجل ہے پاؤں میں پایل بھاری ہے

    یا یہ سمجھ لو نیند میں ہے خوشبو کا کوئی چنچل جھونکا

    یا پھر اس کا جسم یہ سمجھو جوہی کی اک کیاری ہے

    چاند ستاروں میں بھٹکے ہیں صحراؤں میں گزاری ہے

    ہم نے بڑی مشکل سے یارو تب یہ زمیں اتاری ہے

    کل کی جانب دیکھیں کیسے ایک بڑی دشواری ہے

    آنکھ اٹھانا سہل نہیں ہے سپنا اتنا بھاری ہے

    اس نیچے آکاش تلے تو سر بھی اٹھانا ہے مشکل

    ایسے میں جی لینا بھی آسان نہیں فن کاری ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے