مجھ سے یہ مت پوچھو کیا ان آنکھوں کی بیماری ہے
مجھ سے یہ مت پوچھو کیا ان آنکھوں کی بیماری ہے
چمپے جیسی رنگت والی وہ اک سندر ناری ہے
ململ کی ساری ہے تن پر ہاتھوں میں پچکاری ہے
ہم نے سنا ہے اس کی گلی میں ہولی کی تیاری ہے
اس کے گلابی رخساروں پر پھیلی بوند پسینے کی
یا کچنار کے دامن پر یہ اوس کی ہلکی دھاری ہے
ہونٹوں میں سورج بیٹھا ہے رات اتری ہے بالوں میں
آنکھوں میں گہرا کاجل ہے پاؤں میں پایل بھاری ہے
یا یہ سمجھ لو نیند میں ہے خوشبو کا کوئی چنچل جھونکا
یا پھر اس کا جسم یہ سمجھو جوہی کی اک کیاری ہے
چاند ستاروں میں بھٹکے ہیں صحراؤں میں گزاری ہے
ہم نے بڑی مشکل سے یارو تب یہ زمیں اتاری ہے
کل کی جانب دیکھیں کیسے ایک بڑی دشواری ہے
آنکھ اٹھانا سہل نہیں ہے سپنا اتنا بھاری ہے
اس نیچے آکاش تلے تو سر بھی اٹھانا ہے مشکل
ایسے میں جی لینا بھی آسان نہیں فن کاری ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.