زر نہ بخشا نہ سہی چشم گہر بار سہی
زر نہ بخشا نہ سہی چشم گہر بار سہی
عشق پیارا ہے بہت قلب کا آزار سہی
کچھ نہ کچھ گھر میں اثاثہ مرے موجود تو ہے
دولت دہر نہیں دولت افکار سہی
غم و اندوہ مصائب سے بھری ہے دنیا
مجھے پیاری نظر آتی ہے ستمگار سہی
جشن دیوالی منا لیتے ہیں ہر شب جگنو
قید خانے میں سیاہی کے گرفتار سہی
ترا وحشی ترے کوچے میں یہی کہتا تھا
سایۂ زلف نہیں سایۂ دیوار سہی
بزم فنکار میں آیا پئے توقیر کوئی
رہبر شہر نہیں گاؤں کا سردار سہی
کوئی عالم ہو مگر ہنس کے جئے جاتے ہیں
وادئ گل نہ سہی وادیٔ پر خار سہی
اس محبت نے دیا حوصلہ دل کو میرے
راہ آساں نہ سہی منزل دشوار سہی
بڑی امید ہے اللہ سے بخشش کی ہمیں
ہم زمانے کی نگاہوں میں گنہگار سہی
مفلسی قید کئے ہے مگر حسرت ہے ظفرؔ
اک نظر دیکھ تو لیں رونق بازار سہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.