وہی تو ہے تری محفل وہی ہے
وہی تو ہے تری محفل وہی ہے
وہی ہم ہیں ہمارا دل وہی ہے
ہزاروں راہبر ہیں راستے میں
مگر اندیشۂ منزل وہی ہے
پلک پر رک گیا ہے جو ستارا
دل خوں گشتہ کا حاصل وہی ہے
جسے طوفان غم کہتی ہے دنیا
مری امید کا ساحل وہی ہے
مسیحا جس کو تو سمجھا ہے مضطرؔ
ترے سر کی قسم قاتل وہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.