زمیں ملے نہ ملے آسمان مل جائے
زمیں ملے نہ ملے آسمان مل جائے
کہیں قیام ہو کوئی جہان مل جائے
وہ بستی یاد کہاں ہے جہاں سکونت تھی
کبھی تو خواب میں اس کا جہان مل جائے
کوئی رقیب پرندے میں ڈھال دے مجھ کو
امان چاہیے طوطے میں جان مل جائے
ستارہ بن کے کبھی خواب میں چمک اٹھوں
اسی بہانے مجھے آسمان مل جائے
اسے غرور کہ رہتا ہے آفتابوں میں
فلک کو زیر کروں وہ اڑان مل جائے
پناہ مل سکے مجھ کو دیار ماضی میں
قدیم شہر کی کوئی زبان مل جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.