پانی پر تصویر اتارا کرتے تھے
پانی پر تصویر اتارا کرتے تھے
ہم تالاب میں پتھر مارا کرتے تھے
اگلے لوگوں نے بھی وقت گزارا ہے
سوچتا ہوں کس طرح گزارا کرتے تھے
کوئی بات تھی میرے سر پر چاند نہ تھا
تم جو میری سمت اشارا کرتے تھے
ہم سے کوئی اندیشہ کوئی خوف نہ تھا
پھر بھی اونچے لوگ کنارا کرتے تھے
رامؔ جی اب تو نیند سے بھی ڈر لگتا ہے
پہلے ہنس کر موت گوارا کرتے تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.