کوئی شکوہ نہ گلہ ہے نہ شکایت تم سے
کوئی شکوہ نہ گلہ ہے نہ شکایت تم سے
ختم ہو جائے گی اک روز محبت تم سے
غیر کا کیا ہے ہمیں تم سے امیدیں تھیں ذرا
ہو نہ پائی مرے حق میں بھی حمایت تم سے
عمر گزرے گی اذیت میں گزر جانے دو
کیسے ہو جائے بتاؤ ذرا نفرت تم سے
رو بہ رو آؤ کبھی تم کو بتائیں جاناں
دل کو کس درجہ ہوئی جاتی ہے رغبت تم سے
ہم نے اس بار بچھڑنے کا ارادہ تو کیا
آج تک لے نہیں پائے ہیں اجازت تم سے
پہلے پہلے تو بہت روئے تمہارے غم میں
اب یہ لگتا ہے کہ کیوں کی تھی محبت تم سے
اب ترے ظلم پہ رونا بھی نہیں آتا ہے
اب نہیں ہوتی ستمگر کوئی وحشت تم سے
اب تو الماسؔ نہیں رہنے کے قابل دنیا
زندگی ہونے لگی اب مجھے نفرت تم سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.