مری آنکھوں سے اب بہتا لہو اچھا نہیں لگتا
مری آنکھوں سے اب بہتا لہو اچھا نہیں لگتا
مرا خود سے بھی کرنا گفتگو اچھا نہیں لگتا
تمہارے ہاتھ جو مہکے ہیں میرے خوں کی لالی سے
تمہاری آستینوں پر رفو اچھا نہیں لگتا
بہت نزدیک سے دیکھا ہے میں نے اپنی میت کو
کفن کا یہ سفید و شوخ رو اچھا نہیں لگتا
گزرتی ہے جو دل پر وہ بیاں ہو ہی نہیں پاتی
مجھے اب لفظوں کا یہ ہاؤ ہو اچھا نہیں لگتا
تمہاری یاد میں آنکھیں لہو اب تھوکتی ہیں جی
یہ آنسو کا بدلتا رنگ و بو اچھا نہیں لگتا
میں اپنے خون سے لکھتا ہوں اب قصے جدائی کے
قلم کو اب سیاہی کا سبو اچھا نہیں لگتا
دم رخصت مرے لب پر کوئی شکوہ نہیں ہوگا
کسی سے موت کے پل گفتگو اچھا نہیں لگتا
در و دیوار ہنستے ہیں مری اس بے بسی پر اب
مجھے اب اپنے گھر کا رنگ و بو اچھا نہیں لگتا
ترے ہی ہاتھ سے مٹنا مقدر ہے مرا شاید
کسی کی اور کرنا جستجو اچھا نہیں لگتا
بس اب اے موت آ کر چھین لے تو سب سے ساحلؔ کو
کہ اب مجھ کو ہی میرا رو بہ رو اچھا نہیں لگتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.