Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مری آنکھوں سے اب بہتا لہو اچھا نہیں لگتا

اطیب انور ساحل

مری آنکھوں سے اب بہتا لہو اچھا نہیں لگتا

اطیب انور ساحل

MORE BYاطیب انور ساحل

    مری آنکھوں سے اب بہتا لہو اچھا نہیں لگتا

    مرا خود سے بھی کرنا گفتگو اچھا نہیں لگتا

    تمہارے ہاتھ جو مہکے ہیں میرے خوں کی لالی سے

    تمہاری آستینوں پر رفو اچھا نہیں لگتا

    بہت نزدیک سے دیکھا ہے میں نے اپنی میت کو

    کفن کا یہ سفید و شوخ رو اچھا نہیں لگتا

    گزرتی ہے جو دل پر وہ بیاں ہو ہی نہیں پاتی

    مجھے اب لفظوں کا یہ ہاؤ ہو اچھا نہیں لگتا

    تمہاری یاد میں آنکھیں لہو اب تھوکتی ہیں جی

    یہ آنسو کا بدلتا رنگ و بو اچھا نہیں لگتا

    میں اپنے خون سے لکھتا ہوں اب قصے جدائی کے

    قلم کو اب سیاہی کا سبو اچھا نہیں لگتا

    دم رخصت مرے لب پر کوئی شکوہ نہیں ہوگا

    کسی سے موت کے پل گفتگو اچھا نہیں لگتا

    در و دیوار ہنستے ہیں مری اس بے بسی پر اب

    مجھے اب اپنے گھر کا رنگ و بو اچھا نہیں لگتا

    ترے ہی ہاتھ سے مٹنا مقدر ہے مرا شاید

    کسی کی اور کرنا جستجو اچھا نہیں لگتا

    بس اب اے موت آ کر چھین لے تو سب سے ساحلؔ کو

    کہ اب مجھ کو ہی میرا رو بہ رو اچھا نہیں لگتا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے