میں تیرے ساتھ تری چال چل نہ جاؤں کہیں
میں تیرے ساتھ تری چال چل نہ جاؤں کہیں
تری نگاہ کی صورت بدل نہ جاؤں کہیں
تری حیات مری موت ہی سہی لیکن
میں روشنی ہوں اندھیرے نگل نہ جاؤں کہیں
مرے بدن میں سلگنے لگا ہے تیرا بدن
میں تیرے قرب کے شعلوں میں جل نہ جاؤں کہیں
حصار عشق سے باہر بھی لوگ بستے ہیں
تری گرفت سے میں بھی نکل نہ جاؤں کہیں
کسی کو میں نے نظر سے گرا دیا ہے مگر
فراز کوہ سے میں بھی پھسل نہ جاؤں کہیں
یہ کون میری جڑیں کاٹنے کی فکر میں ہے
کسے یہ ڈر ہے کہ میں پھول پھل نہ جاؤں کہیں
دہک اٹھا ہے مرے دل میں درد کا سورج
نجیبؔ حدت غم سے پگھل نہ جاؤں کہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.