خزاں کے تن پہ ہواؤں کے تازیانے لگے
خزاں کے تن پہ ہواؤں کے تازیانے لگے
برنگ زخم کئی پھول مسکرانے لگے
بس ایک موت کی خواہش کو اور جینے دو
کہیں حیات کی یہ لاش تو ٹھکانے لگے
کسی کی گود میں تو چاند بن کے ڈوب گیا
کسی کے ہاتھ تری یاد کے خزانے لگے
یہ شب کے سائے مری خامشی کا حسن بھی تھے
مگر یہ سائے تو اب شور بھی مچانے لگے
جنہیں بتایا تھا میں نے گداز گل کا اثر
وہ پتھروں سے یہی داؤں آزمانے لگے
حیات سانس کے زنداں کا ایک لمحہ ہے
اس ایک بات کو کہتے ہوئے زمانے لگے
نظر نظر کو دکھاتے ہو زخم جاں اخترؔ
مگر یہ لوگ مداوا کہاں بنانے لگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.