Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خزاں کے تن پہ ہواؤں کے تازیانے لگے

اختر امان

خزاں کے تن پہ ہواؤں کے تازیانے لگے

اختر امان

MORE BYاختر امان

    خزاں کے تن پہ ہواؤں کے تازیانے لگے

    برنگ زخم کئی پھول مسکرانے لگے

    بس ایک موت کی خواہش کو اور جینے دو

    کہیں حیات کی یہ لاش تو ٹھکانے لگے

    کسی کی گود میں تو چاند بن کے ڈوب گیا

    کسی کے ہاتھ تری یاد کے خزانے لگے

    یہ شب کے سائے مری خامشی کا حسن بھی تھے

    مگر یہ سائے تو اب شور بھی مچانے لگے

    جنہیں بتایا تھا میں نے گداز گل کا اثر

    وہ پتھروں سے یہی داؤں آزمانے لگے

    حیات سانس کے زنداں کا ایک لمحہ ہے

    اس ایک بات کو کہتے ہوئے زمانے لگے

    نظر نظر کو دکھاتے ہو زخم جاں اخترؔ

    مگر یہ لوگ مداوا کہاں بنانے لگے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے