Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

ادریس بابر

انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

ادریس بابر

MORE BYادریس بابر

    انسانی درندے اور اس آسانی سے مر جائیں

    یہ سوچنے بیٹھیں تو پریشانی سے مر جائیں

    وہ جن کو میسر تھی ہر اک چیز دگر بھی

    ممکن ہے سہولت کی فراوانی سے مر جائیں

    کشتی پہ تھے کشتی کو جلاتے ہوئے حضرات

    اب آگ سے بچ جائیں بھلے پانی سے مر جائیں

    آئینے کا یہ کون سا سیزن ہے ہمیں کیا

    دیوار کو تکتے ہوئے حیرانی سے مر جائیں

    اے دوست مکمل نظر انداز ہی کر دیکھ

    ایسا نہ ہو ہم نیم نگہبانی سے مر جائیں

    بچ جائیں تو آخر کسے کیا فرق پڑے گا

    دشمن نہ سہی دوست پشیمانی سے مر جائیں

    آنکھوں میں اترتے ہوئے اترائیں ستارے

    سورج ہوں تو جل کر تری پیشانی سے مر جائیں

    رانجھے کو تو پھر ہیر کی تصویر بہت ہے

    جی کرتا تھا لگ کر اسی مرجانی سے مر جائیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے