بد تر ہیں اس جہان میں بہتر چلے گئے
بد تر ہیں اس جہان میں بہتر چلے گئے
نیچے گئے زمین کے اوپر چلے گئے
تم آئے میری زیست میں مہمان کی طرح
اور دکھ کو میری جیب میں رکھ کر چلے گئے
دریا نہیں ہے آگ کا دلدل ہے عشق سو
تیراک جتنے آئے سب اندر چلے گئے
ماں باپ رو رہے ہیں کہ بیٹی چلی گئی
اور بھائی رو رہے ہیں کہ زیور چلے گئے
قدموں کو ان کے چومنے آتا فرات پر
بننے کو اک نظیر بہتر چلے گئے
دہرا رہا ہوں مطلع غزل کا میں اب تلک
سب سننے والے سن کے مجھے گھر چلے گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.