Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہاں کب فرق پڑتا ہے کسی کے آنے جانے میں

محمد سلیم طاہر

کہاں کب فرق پڑتا ہے کسی کے آنے جانے میں

محمد سلیم طاہر

MORE BYمحمد سلیم طاہر

    کہاں کب فرق پڑتا ہے کسی کے آنے جانے میں

    کئی کردار ہوتے ہیں کہانی میں فسانے میں

    بہت سے رنگ بادل اور پرندے لوٹ جاتے ہیں

    کئی موسم بہت تاخیر کر دیتے ہیں آنے میں

    بہت سے دوستوں کا روٹھ جانا راز رہتا ہے

    انہیں ناراض جانا ہوتا ہے اگلے زمانے میں

    زمانہ اپنے ہاتھوں اپنا چہرہ ڈھانپ لیتا ہے

    کئی صدیاں گزر جاتی ہیں یہ پردہ اٹھانے میں

    سر میداں نہتا آدمی بے خوف ہوتا ہے

    مگر اک خوف ہوتا ہے کہیں خفیہ ٹھکانے میں

    جہاں دریا گزرتا ہے نشانی چھوڑ جاتا ہے

    بہا کر ساتھ لے جاتا ہے کیا کچھ آبیانے میں

    خزانہ خالی کر دینے میں کتنی دیر لگتی ہے

    یہاں تو عمر لگ جاتی ہے دو پیسے کمانے میں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے