Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو سر نگاہ یقین تھا وہ غبار راہ چھٹا نہیں

محمد سلیم طاہر

جو سر نگاہ یقین تھا وہ غبار راہ چھٹا نہیں

محمد سلیم طاہر

MORE BYمحمد سلیم طاہر

    جو سر نگاہ یقین تھا وہ غبار راہ چھٹا نہیں

    وہ جو سنگ وہم تھا موڑ پر وہی راستے سے ہٹا نہیں

    میں نکل سکا نہیں آج تک ترے موسموں کی گرفت سے

    جسے اپنے آپ پہ زعم تھا رہ ابتلا میں ڈٹا نہیں

    یہ جو دوستی کے ہیں سلسلے یہ براۓ نام ہیں چل رہے

    مرے حال پر جو برس پڑے کسی آنکھ میں وہ گھٹا نہیں

    وہ جو شکل عام سی شکل تھی مجھے یاد رہ گئی کس طرح

    مرے حافظے میں ہے کس لئے وہ جو نام میں نے رٹا نہیں

    ترا نام میرے وجود میں مری دھڑکنوں سے جڑا رہا

    وہ جو رابطہ تھا ضعیف سا ترے کاٹنے سے کٹا نہیں

    کسی مہربان کے ہاتھ نے مجھے بار بار بچا لیا

    کبھی برق گرنے سے رہ گئی کبھی آسمان پھٹا نہیں

    تری مصلحت کی منڈیر پر مرا ایک اشک پڑا رہا

    تو نے ایک عمر گزار دی مرا ایک لمحہ کٹا نہیں

    زر اعتراف ادا کیا مرے دل سے بوجھ اتر گیا

    میں ہوں اپنی ذات میں سرخ رو مرا کوئی رتبہ گھٹا نہیں

    مری آنکھ تیری تلاش میں ترے راستے میں پڑی رہی

    کسی انتشار کے دور میں مرا دھیان تجھ سے ہٹا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے