جو سر نگاہ یقین تھا وہ غبار راہ چھٹا نہیں
جو سر نگاہ یقین تھا وہ غبار راہ چھٹا نہیں
وہ جو سنگ وہم تھا موڑ پر وہی راستے سے ہٹا نہیں
میں نکل سکا نہیں آج تک ترے موسموں کی گرفت سے
جسے اپنے آپ پہ زعم تھا رہ ابتلا میں ڈٹا نہیں
یہ جو دوستی کے ہیں سلسلے یہ براۓ نام ہیں چل رہے
مرے حال پر جو برس پڑے کسی آنکھ میں وہ گھٹا نہیں
وہ جو شکل عام سی شکل تھی مجھے یاد رہ گئی کس طرح
مرے حافظے میں ہے کس لئے وہ جو نام میں نے رٹا نہیں
ترا نام میرے وجود میں مری دھڑکنوں سے جڑا رہا
وہ جو رابطہ تھا ضعیف سا ترے کاٹنے سے کٹا نہیں
کسی مہربان کے ہاتھ نے مجھے بار بار بچا لیا
کبھی برق گرنے سے رہ گئی کبھی آسمان پھٹا نہیں
تری مصلحت کی منڈیر پر مرا ایک اشک پڑا رہا
تو نے ایک عمر گزار دی مرا ایک لمحہ کٹا نہیں
زر اعتراف ادا کیا مرے دل سے بوجھ اتر گیا
میں ہوں اپنی ذات میں سرخ رو مرا کوئی رتبہ گھٹا نہیں
مری آنکھ تیری تلاش میں ترے راستے میں پڑی رہی
کسی انتشار کے دور میں مرا دھیان تجھ سے ہٹا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.