اک شبنمی پھوار نے موسم بدل دیا
اک شبنمی پھوار نے موسم بدل دیا
یاد آ کے یاد یار نے موسم بدل دیا
سانسیں پڑی ہوئی تھیں گھٹن کی گرفت میں
اک موجۂ بہار نے موسم بدل دیا
زندہ دلی نے غم کو ہوا میں اڑا دیا
ہنس ہنس کے غم گسار نے موسم بدل دیا
پھولوں سے لد گئیں مری سوچوں کی ڈالیاں
خوشبوئے برگ و بار نے موسم بدل دیا
اک خوش نظر نے روح میں ٹھنڈک اتار دی
اک چشم اعتبار نے موسم بدل دیا
آنکھوں کے خشک قریے بھی آباد ہو گئے
اشکوں کی اک قطار نے موسم بدل دیا
قد آوری ملی تو میں سجدے میں گر گیا
حد درجہ انکسار نے موسم بدل دیا
جو ذہن پر دباؤ تھا کافور ہو گیا
خوش لمس دست یار نے موسم بدل دیا
جگنو سرشت شخص نے روشن کیا مجھے
اک برف کے شرار نے موسم بدل دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.