Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بکھرتے رابطوں کا ہے بچھڑتے راستوں کا ہے

اتباف ابرک

بکھرتے رابطوں کا ہے بچھڑتے راستوں کا ہے

اتباف ابرک

MORE BYاتباف ابرک

    بکھرتے رابطوں کا ہے بچھڑتے راستوں کا ہے

    دسمبر نام ہے جس کا مہینہ حادثوں کا ہے

    کہیں ہے آس کا بادل کہیں یادوں کی بوندیں ہیں

    مچلتی خواہشوں کا ہے یہ موسم بارشوں کا ہے

    وہی مے کش ہوائیں ہیں وہی گم صم فضائیں ہیں

    مری پر امن دنیا میں یہ موسم سازشوں کا ہے

    پرانے عارضے سارے امڈ آئے ہیں آنکھوں میں

    یہ موسم ہے سرابوں کا یہ موسم وسوسوں کا ہے

    وہی سب رت جگے ابرکؔ وہی تیرے گلے ابرکؔ

    کہ اس کے بعد بھی ہر پل اسی کی وحشتوں کا ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے