بکھرتے رابطوں کا ہے بچھڑتے راستوں کا ہے
بکھرتے رابطوں کا ہے بچھڑتے راستوں کا ہے
دسمبر نام ہے جس کا مہینہ حادثوں کا ہے
کہیں ہے آس کا بادل کہیں یادوں کی بوندیں ہیں
مچلتی خواہشوں کا ہے یہ موسم بارشوں کا ہے
وہی مے کش ہوائیں ہیں وہی گم صم فضائیں ہیں
مری پر امن دنیا میں یہ موسم سازشوں کا ہے
پرانے عارضے سارے امڈ آئے ہیں آنکھوں میں
یہ موسم ہے سرابوں کا یہ موسم وسوسوں کا ہے
وہی سب رت جگے ابرکؔ وہی تیرے گلے ابرکؔ
کہ اس کے بعد بھی ہر پل اسی کی وحشتوں کا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.