جھڑکی تو مدتوں سے مساوات ہو گئی
جھڑکی تو مدتوں سے مساوات ہو گئی
گالی کبھو نہ دی تھی سو اب بات ہو گئی
مستی سے اس نگاہ کی لے محتسب خبر
دنیا تمام بزم خرابات ہو گئی
ملنا ترا ہر ایک سے میں کیا کروں بیاں
عالم سے مجھ کو ترک ملاقات ہو گئی
یارو وہ شرم سے جو نہ بولا تو کیا ہوا
نظروں میں سو طرح کی حکایات ہو گئی
سوداؔ کسی کو وہ تو ستاوے نہ بے سبب
کیا جانیے کہ تجھ سے ہی کیا بات ہو گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.