مجنوں کی سچائی کتنی سارا تو افسانہ ہے
مجنوں کی سچائی کتنی سارا تو افسانہ ہے
شہرت جس کو راس آ جائے وہ کیسا دیوانہ ہے
میرے رقیب سندیسہ لائے اپنے قد کی بلندی پر
سرو قدوں شمشاد قدوں میں ان کا آنا جانا ہے
اپنا سر وہ کیسے جھکائے اس ساگر کی چوکھٹ پر
گنگا جی کے تٹ پر یارو جس جوگی کا ٹھکانہ ہے
سب یہی سمجھے ہم بھی کوئی لفظوں کے سوداگر ہیں
آنکھوں کے اس جنگل میں بھی کس نے ہمیں پہچانا ہے
میرے ساتھ مرا سورج ہے میرے ساتھ مرا سایہ
تنہائی تو ان کی دیکھوں جن کے ساتھ زمانہ ہے
ہم سے پوچھو یہ کیا شے ہے ہم جلنے کو آئے ہیں
اس کو تبرک جان کے لے لو یہ خاک پروانہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.