وہ کیا کہیں گے صورت بیمار دیکھ کر
وہ کیا کہیں گے صورت بیمار دیکھ کر
اندازہ ہے ہر ایک کو آثار دیکھ کر
ہم بڑھ رہے تھے جن کو طرف دار دیکھ کر
وہ رک گئے زمانے کی رفتار دیکھ کر
ان کی نظر بھی ہے سر محشر جھکی ہوئی
کچھ ہم بھی چپ ہیں مجمع اغیار دیکھ کر
طول غم حیات سے گھبرا گیا تھا میں
لیکن سنبھل گیا نگہ یار دیکھ کر
پروانے اپنے عشق میں ثابت قدم رہے
آنکھوں سے اپنی موت کے آثار دیکھ کر
بجلی گرائی طور پہ تو کیا کمال ہے
جلوہ دکھاؤ طاقت دیدار دیکھ کر
ہم کو کچھ ایسی بار نہ تھی اپنی زندگی
جاں دی ہے صرف موت کا اصرار دیکھ کر
کیسے اٹھے گا حشر نہ سمجھے تھے آج تک
اندازہ ہو گیا تری رفتار دیکھ کر
مڑ کر بھی رہروان عدم دیکھتے نہیں
ایسے چلے ہیں راہ کو ہموار دیکھ کر
میری طرح سے کوئی ہو مغموم کس لئے
دیتے ہیں غم وہ ظرف طلبگار دیکھ کر
دنیا کے دل دکھانے کا صدمہ نہیں عدیلؔ
صدمہ ہے ان کو درپئے آزار دیکھ کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.