Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ کیا کہیں گے صورت بیمار دیکھ کر

نظیر علی عدیل

وہ کیا کہیں گے صورت بیمار دیکھ کر

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    وہ کیا کہیں گے صورت بیمار دیکھ کر

    اندازہ ہے ہر ایک کو آثار دیکھ کر

    ہم بڑھ رہے تھے جن کو طرف دار دیکھ کر

    وہ رک گئے زمانے کی رفتار دیکھ کر

    ان کی نظر بھی ہے سر محشر جھکی ہوئی

    کچھ ہم بھی چپ ہیں مجمع اغیار دیکھ کر

    طول غم حیات سے گھبرا گیا تھا میں

    لیکن سنبھل گیا نگہ یار دیکھ کر

    پروانے اپنے عشق میں ثابت قدم رہے

    آنکھوں سے اپنی موت کے آثار دیکھ کر

    بجلی گرائی طور پہ تو کیا کمال ہے

    جلوہ دکھاؤ طاقت دیدار دیکھ کر

    ہم کو کچھ ایسی بار نہ تھی اپنی زندگی

    جاں دی ہے صرف موت کا اصرار دیکھ کر

    کیسے اٹھے گا حشر نہ سمجھے تھے آج تک

    اندازہ ہو گیا تری رفتار دیکھ کر

    مڑ کر بھی رہروان عدم دیکھتے نہیں

    ایسے چلے ہیں راہ کو ہموار دیکھ کر

    میری طرح سے کوئی ہو مغموم کس لئے

    دیتے ہیں غم وہ ظرف طلبگار دیکھ کر

    دنیا کے دل دکھانے کا صدمہ نہیں عدیلؔ

    صدمہ ہے ان کو درپئے آزار دیکھ کر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے