یہ غنیمت ہے کہ ان آنکھوں نے پہچانا ہمیں
یہ غنیمت ہے کہ ان آنکھوں نے پہچانا ہمیں
کوئی تو سمجھا دیار غیر میں اپنا ہمیں
وصل میں تیرے خرابے بھی لگیں گھر کی طرح
اور تیرے ہجر میں بستی بھی ویرانہ ہمیں
وہ کہ جن کے ہاتھ میں تقدیر فصل گل رہی
دے گئے سوکھے ہوئے پتوں کا نذرانہ ہمیں
سچ تمہارے سارے کڑوے تھے مگر اچھے لگے
پھانس بن کر رہ گیا بس ایک افسانہ ہمیں
جن کی خاطر کشتیاں ہم نے جلا ڈالیں تمام
اب وہی کم مائیگی کا دے گئے طعنہ ہمیں
سنتے ہیں قیمت تمہاری لگ رہی ہے آج کل
سب سے اچھے دام کس کے ہیں یہ بتلانا ہمیں
تاکہ اس خوش بخت تاجر کو مبارک باد دیں
اور اس کے بعد دل کو بھی ہے سمجھانا ہمیں
اجنبی لوگوں میں ہو تم اور اتنی دور ہو
ایک الجھن سی رہا کرتی ہے روزانہ ہمیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.