Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ غنیمت ہے کہ ان آنکھوں نے پہچانا ہمیں

پروین شاکر

یہ غنیمت ہے کہ ان آنکھوں نے پہچانا ہمیں

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    یہ غنیمت ہے کہ ان آنکھوں نے پہچانا ہمیں

    کوئی تو سمجھا دیار غیر میں اپنا ہمیں

    وصل میں تیرے خرابے بھی لگیں گھر کی طرح

    اور تیرے ہجر میں بستی بھی ویرانہ ہمیں

    وہ کہ جن کے ہاتھ میں تقدیر فصل گل رہی

    دے گئے سوکھے ہوئے پتوں کا نذرانہ ہمیں

    سچ تمہارے سارے کڑوے تھے مگر اچھے لگے

    پھانس بن کر رہ گیا بس ایک افسانہ ہمیں

    جن کی خاطر کشتیاں ہم نے جلا ڈالیں تمام

    اب وہی کم مائیگی کا دے گئے طعنہ ہمیں

    سنتے ہیں قیمت تمہاری لگ رہی ہے آج کل

    سب سے اچھے دام کس کے ہیں یہ بتلانا ہمیں

    تاکہ اس خوش بخت تاجر کو مبارک باد دیں

    اور اس کے بعد دل کو بھی ہے سمجھانا ہمیں

    اجنبی لوگوں میں ہو تم اور اتنی دور ہو

    ایک الجھن سی رہا کرتی ہے روزانہ ہمیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے