وقت کی دھار میں تیزی کبھی ایسی تو نہ تھی
وقت کی دھار میں تیزی کبھی ایسی تو نہ تھی
خوں میں غلطیدہ مری زندگی ایسی تو نہ تھی
آرزو پہلے مجھے موت کی ایسی تو نہ تھی
دل کے آنگن میں کبھی تیرگی ایسی تو نہ تھی
ڈال دیں گے مرے کاسے میں وہ خود کو اک دن
کبھی تاثیر صدا میں مری ایسی تو نہ تھی
کسی طوفاں کے یہ آثار نہ ہوں دل والو
ان نگاہوں میں کبھی خامشی ایسی تو نہ تھی
کھینچ دی کس نے حد غم پہ تبسم کی فصیل
کوچۂ درد میں تابندگی ایسی تو نہ تھی
کون خوابوں کے گھروندے بھی مرے توڑ گیا
تھی مگر مجھ سے انہیں دشمنی ایسی تو نہ تھی
جانے کس دشت میں کھوئے گئے سارے سائے
دھوپ ہنگاموں کی پہلے کبھی ایسی تو نہ تھی
بربط درد سے ابھری ہیں یہ کس کی یادیں
نالۂ شب میں کبھی نغمگی ایسی تو نہ تھی
تم کو کچھ یاد ہے جب اپنا بنایا تھا مجھے
زندگی میرے لئے اجنبی ایسی تو نہ تھی
بجلیاں ٹوٹ کے کیوں جانے نشیمن پہ گریں
خس و خاشاک میں کچھ دلکشی ایسی تو نہ تھی
میں سر راہ کھڑا سوچ رہا ہوں اب تک
مجھ میں ان میں کوئی بے گانگی ایسی تو نہ تھی
کتنی ہی خوشیوں کے خوں سے بھی نعیمیؔ نہ بجھی
غم کے ہونٹوں پہ کبھی تشنگی ایسی تو نہ تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.