Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وقت کی دھار میں تیزی کبھی ایسی تو نہ تھی

عبد الحفیظ نعیمی

وقت کی دھار میں تیزی کبھی ایسی تو نہ تھی

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    وقت کی دھار میں تیزی کبھی ایسی تو نہ تھی

    خوں میں غلطیدہ مری زندگی ایسی تو نہ تھی

    آرزو پہلے مجھے موت کی ایسی تو نہ تھی

    دل کے آنگن میں کبھی تیرگی ایسی تو نہ تھی

    ڈال دیں گے مرے کاسے میں وہ خود کو اک دن

    کبھی تاثیر صدا میں مری ایسی تو نہ تھی

    کسی طوفاں کے یہ آثار نہ ہوں دل والو

    ان نگاہوں میں کبھی خامشی ایسی تو نہ تھی

    کھینچ دی کس نے حد غم پہ تبسم کی فصیل

    کوچۂ درد میں تابندگی ایسی تو نہ تھی

    کون خوابوں کے گھروندے بھی مرے توڑ گیا

    تھی مگر مجھ سے انہیں دشمنی ایسی تو نہ تھی

    جانے کس دشت میں کھوئے گئے سارے سائے

    دھوپ ہنگاموں کی پہلے کبھی ایسی تو نہ تھی

    بربط درد سے ابھری ہیں یہ کس کی یادیں

    نالۂ شب میں کبھی نغمگی ایسی تو نہ تھی

    تم کو کچھ یاد ہے جب اپنا بنایا تھا مجھے

    زندگی میرے لئے اجنبی ایسی تو نہ تھی

    بجلیاں ٹوٹ کے کیوں جانے نشیمن پہ گریں

    خس و خاشاک میں کچھ دلکشی ایسی تو نہ تھی

    میں سر راہ کھڑا سوچ رہا ہوں اب تک

    مجھ میں ان میں کوئی بے گانگی ایسی تو نہ تھی

    کتنی ہی خوشیوں کے خوں سے بھی نعیمیؔ نہ بجھی

    غم کے ہونٹوں پہ کبھی تشنگی ایسی تو نہ تھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے