Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تجھے اب کس لیے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

مولوی اسلم وڑائچ

تجھے اب کس لیے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

مولوی اسلم وڑائچ

MORE BYمولوی اسلم وڑائچ

    تجھے اب کس لیے شکوہ ہے بچے گھر نہیں رہتے

    جو پتے زرد ہو جائیں وہ پیڑوں پر نہیں رہتے

    اسے جس دھوپ میں جبری مشقت کھینچ لائی ہے

    گھروں سے سائے بھی اس دھوپ میں باہر نہیں رہتے

    جھکا دے گا تری گردن کو یہ خیرات کا پتھر

    جہاں میں مانگنے والوں کے اونچے سر نہیں رہتے

    یقیناً یہ رعایا بادشہ کو قتل کر دے گی

    مسلسل جبر سے اسلمؔ دلوں میں ڈر نہیں رہتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے