Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رستوں سے کیا گلہ ہے جو منزل یہاں نہیں

اتباف ابرک

رستوں سے کیا گلہ ہے جو منزل یہاں نہیں

اتباف ابرک

MORE BYاتباف ابرک

    رستوں سے کیا گلہ ہے جو منزل یہاں نہیں

    جس پار تھا اترنا وہ ساحل یہاں نہیں

    مانا وہی ہے شہر وہی بھیڑ بھاڑ ہے

    جس کو مری تلاش وہ محفل یہاں نہیں

    لازم ہے کیوں ہمی پہ ہر اک خواب دیکھنا

    کیوں ہم کسی کے خواب کا حاصل یہاں نہیں

    ممکن کہاں ہے اور کی اب جستجو اے دل

    جب اک نظر کے بھی کوئی قابل یہاں نہیں

    تم اور تمہارے بعد یہ آسانیاں ہوئیں

    اب اور کوئی بھی ہمیں مشکل یہاں نہیں

    نیندوں کو ہم سے بچھڑے زمانے گزر گئے

    یادوں سے آج کہنا وہ غافل یہاں نہیں

    جو بھی یہاں پہ نکلا محبت ہے بانٹنے

    دریا میں پھینک آیا کہ سائل یہاں نہیں

    ابرکؔ اٹھو چلو کہیں دیتے ہیں اور جاں

    تو جس کو ڈھونڈتا ہے وہ قاتل یہاں نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے