پانی تو کیا جلن سے میں پیاسا ہوا کا تھا
پانی تو کیا جلن سے میں پیاسا ہوا کا تھا
اک آہ بھی مرے لیے جھونکا صبا کا تھا
کچھ یوں کرن کرن میں اداسی تھی جس طرح
مہتاب بھی شباب کسی بے نوا کا تھا
نرگس صفت کسی کو نہ دکھلا سکے مگر
دامان دید میں کوئی منظر بلا کا تھا
تھے قریہ قریہ دل میں خرابے بسے ہوئے
جیسے یہ شہر بھی مرے فرماں روا کا تھا
اب دست و پا کو عادت زنجیر ہو گئی
مشکل تھا جس قدر بھی سفر ابتدا کا تھا
صدیوں سے ہم بھی صورت صحرا تھے تشنہ کام
برسی وہیں جدھر کو جھکاؤ گھٹا کا تھا
جب میں چلا ڈبو کے سفینہ تو میرے یار
اس سمت چل دیئے کہ جدھر رخ ہوا کا تھا
کیسے کہوں کہ سارا زمانہ سخی نہیں
کوئی تو جرم اپنے بھی دامان وا کا تھا
تھی دسترس نہ تیرے خم زلف تک تو کیا
خوشبو کی طرح میں بھی مسافر ہوا کا تھا
نغمے کی طرح میرے لبوں پر بکھر گیا
خاموش سا وہ شخص کہ پیکر حیا کا تھا
یوں تو تناسب لب و رخ بھی ہے خوب شے
ہم جس پہ مر مٹے ہیں وہ جادو صدا کا تھا
یوں تو ہزار شکر کہ تو مل گیا مگر
یہ دکھ کہ دھیان تجھ سے بھی نازک ادا کا تھا
ق
صادقؔ مزاج تلخ نشہ تند رنگ تیز
مانند مے معاملہ جنس وفا کا تھا
فردوس کی فضا میں بھی کم کم سکوں ملا
آنکھیں نجف کی جسم مرا کربلا کا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.