Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پانی تو کیا جلن سے میں پیاسا ہوا کا تھا

صادق نسیم

پانی تو کیا جلن سے میں پیاسا ہوا کا تھا

صادق نسیم

MORE BYصادق نسیم

    پانی تو کیا جلن سے میں پیاسا ہوا کا تھا

    اک آہ بھی مرے لیے جھونکا صبا کا تھا

    کچھ یوں کرن کرن میں اداسی تھی جس طرح

    مہتاب بھی شباب کسی بے نوا کا تھا

    نرگس صفت کسی کو نہ دکھلا سکے مگر

    دامان دید میں کوئی منظر بلا کا تھا

    تھے قریہ قریہ دل میں خرابے بسے ہوئے

    جیسے یہ شہر بھی مرے فرماں روا کا تھا

    اب دست و پا کو عادت زنجیر ہو گئی

    مشکل تھا جس قدر بھی سفر ابتدا کا تھا

    صدیوں سے ہم بھی صورت صحرا تھے تشنہ کام

    برسی وہیں جدھر کو جھکاؤ گھٹا کا تھا

    جب میں چلا ڈبو کے سفینہ تو میرے یار

    اس سمت چل دیئے کہ جدھر رخ ہوا کا تھا

    کیسے کہوں کہ سارا زمانہ سخی نہیں

    کوئی تو جرم اپنے بھی دامان وا کا تھا

    تھی دسترس نہ تیرے خم زلف تک تو کیا

    خوشبو کی طرح میں بھی مسافر ہوا کا تھا

    نغمے کی طرح میرے لبوں پر بکھر گیا

    خاموش سا وہ شخص کہ پیکر حیا کا تھا

    یوں تو تناسب لب و رخ بھی ہے خوب شے

    ہم جس پہ مر مٹے ہیں وہ جادو صدا کا تھا

    یوں تو ہزار شکر کہ تو مل گیا مگر

    یہ دکھ کہ دھیان تجھ سے بھی نازک ادا کا تھا

    ق

    صادقؔ مزاج تلخ نشہ تند رنگ تیز

    مانند مے معاملہ جنس وفا کا تھا

    فردوس کی فضا میں بھی کم کم سکوں ملا

    آنکھیں نجف کی جسم مرا کربلا کا تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے