جنوں نے خود سے بھی بیزار کر دیا ہے مجھے
جنوں نے خود سے بھی بیزار کر دیا ہے مجھے
میں اچھا خاصا تھا بیمار کر دیا ہے مجھے
بھلا میں کیسے رہ عشق سے بھٹک جاؤں
کسی نے پہلے ہی ہشیار کر دیا ہے مجھے
ادب سکھایا تھا مجھ کو تو شعر گوئی نے
مشاعروں نے اداکار کر دیا ہے مجھے
اب اس کے کوچے میں جانے سے فائدہ کیا ہے
جب اس نے ملنے سے انکار کر دیا ہے مجھے
وہ جس کے پیار میں دیوانہ ہو گیا ہوں میں
اسی نے زیست سے بیزار کر دیا ہے مجھے
عجیب نشہ سا طاری ہے ذہن و دل پہ مرے
کسی کے حسن نے سرشار کر دیا ہے مجھے
جھکا ہوا ہے مرا جس کی بارگاہ میں سر
اسی نے صاحب دستار کر دیا ہے مجھے
مری انا کی اس آواز نے ہی اے نجمیؔ
مرے خلاف کئی بار کر دیا ہے مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.