جو تیرے در نہیں جاتے
جو تیرے در نہیں جاتے
وہ کیونکر مر نہیں جاتے
سبھی جاتے ہیں ان کے در
مجھے لے کر نہیں جاتے
میں پوچھوں مدتوں سے کیا
یہ گھاؤ بھر نہیں جاتے
برے غم بھول جاتے ہیں
مگر بد تر نہیں جاتے
بہاریں لا نہیں سکتے
یہ بادل گھر نہیں جاتے
تری انکار کی عادت
ہمارے ڈر نہیں جاتے
ہم آئے بن بلائے وہ
بلانے پر نہیں جاتے
اسامہؔ ان کی محفل میں
اٹھا کر سر نہیں جاتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.