Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جینے کے ان کے ساتھ بہانے چلے گئے

اتباف ابرک

جینے کے ان کے ساتھ بہانے چلے گئے

اتباف ابرک

MORE BYاتباف ابرک

    جینے کے ان کے ساتھ بہانے چلے گئے

    اٹھ کر گئے وہ یوں کہ زمانے چلے گئے

    احساس جن کے ہونے سے ہونے کا تھا کبھی

    ان بے گھروں کے سارے ٹھکانے چلے گئے

    کرنا یہاں پہ کیا تھا مگر کر رہے ہیں کیا

    ہم کیا کریں کہ اپنے سیانے چلے گئے

    جو پاس تھے تو قصہ بھی کیا دل فریب تھا

    کھولی جو اب کتاب فسانے چلے گئے

    رونق تو چار سو ہے مگر مفلسوں کو کیا

    خالی ہیں ان کی جیبیں خزانے چلے گئے

    تپتا ہے آفتاب تو جلتی ہے یہ زمیں

    موسم بھی ان کے ساتھ سہانے چلے گئے

    حاسد سمجھ نہ لیجے یونہی سوچتا ہوں میں

    اب وہ نہ جانے کس کو رجھانے چلے گئے

    ابرکؔ محبتوں میں نہ دعوے کیا کریں

    کیوں خود نہ آپ ان کو منانے چلے گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے