ہم تو اک وہم کی خوش چہرہ بلا سے نکلے
ہم تو اک وہم کی خوش چہرہ بلا سے نکلے
کیا ہوا دوست اگر خون کے پیاسے نکلے
دل میں آیا تھا کہ مرہم ہی کسی سے مانگیں
سنسناتے ہوئے کچھ تیر فضا سے نکلے
خم بہ خم زلف رخ صبح پہ چھائی ہی رہی
زلف تیرہ کے نہ خم دست صبا سے نکلے
کھول پائے تھے بہ مشکل وہ بندھی مٹھی مگر
ٹکڑے خوابوں ہی کے کچھ مشت ہوا سے نکلے
اجنبیت کہ محبت کہ خیال وعدہ
کتنے ہی پہلو تری ایک حیا سے نکلے
رنگ و رعنائی بہاروں میں کہاں تھی پہلے
سیکڑوں رنگ ترے رنگ قبا سے نکلے
قصر تنہائی تو ٹوٹے کوئی آہٹ تو ہو
اک جنازہ ہی کسی دشت وفا سے نکلے
ہم وہ پیاسے تھے نعیمیؔ کہ ہماری خاطر
خون کے دریا سرابوں کی جٹا سے نکلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.