دیوتا کی طرح ہر آنکھ کا تارا ہوتے
دیوتا کی طرح ہر آنکھ کا تارا ہوتے
ہم اگر جسم نہیں جسم کا سایا ہوتے
تم نے اچھا کیا جو آنکھ ملا کر کی بات
ورنہ کیا جانے گماں لوگوں کو کیا کیا ہوتے
دھوپ میں سوچ کی مدت سے کھڑا جلتا ہوں
کاش تم ابر کا چھوٹا ہی سا ٹکڑا ہوتے
میرے اشکوں کے ستارے نہ اگر ہوتے رفیق
جلتے سورج کی طرح آپ بھی تنہا ہوتے
میں یہ سب دکھ نظر انداز ہی کر دیتا اگر
تم مرے دوست نہیں صرف شناسا ہوتے
بر تو آ جاتی کبھی شوق کے دامن کی مراد
تم اگر پھول نہ ہوتے کوئی کانٹا ہوتے
وسعتیں تو تھیں بہرحال مقدر اپنا
ہم سمندر نہ اگر ہوتے تو صحرا ہوتے
ہر ورق پر تو بکھرنے سے یہ بہتر تھا کہ ہم
ان کی آنکھوں سے ٹپکتا وہ فسانا ہوتے
کوہ و صحرا میں بھی گونجے تو کسی نے نہ سنا
کیا برائی تھی اگر ساز شکستہ ہوتے
روتے روتے مجھے کل آیا قفس میں یہ خیال
جانے کیا ہوتا جو آنسو کہیں شعلہ ہوتے
کہہ تو سکتے ہے نعیمیؔ کا بھی دنیا میں کوئی
کم سے کم تم مرا جھوٹا ہی سہارا ہوتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.