Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیوتا کی طرح ہر آنکھ کا تارا ہوتے

عبد الحفیظ نعیمی

دیوتا کی طرح ہر آنکھ کا تارا ہوتے

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    دیوتا کی طرح ہر آنکھ کا تارا ہوتے

    ہم اگر جسم نہیں جسم کا سایا ہوتے

    تم نے اچھا کیا جو آنکھ ملا کر کی بات

    ورنہ کیا جانے گماں لوگوں کو کیا کیا ہوتے

    دھوپ میں سوچ کی مدت سے کھڑا جلتا ہوں

    کاش تم ابر کا چھوٹا ہی سا ٹکڑا ہوتے

    میرے اشکوں کے ستارے نہ اگر ہوتے رفیق

    جلتے سورج کی طرح آپ بھی تنہا ہوتے

    میں یہ سب دکھ نظر انداز ہی کر دیتا اگر

    تم مرے دوست نہیں صرف شناسا ہوتے

    بر تو آ جاتی کبھی شوق کے دامن کی مراد

    تم اگر پھول نہ ہوتے کوئی کانٹا ہوتے

    وسعتیں تو تھیں بہرحال مقدر اپنا

    ہم سمندر نہ اگر ہوتے تو صحرا ہوتے

    ہر ورق پر تو بکھرنے سے یہ بہتر تھا کہ ہم

    ان کی آنکھوں سے ٹپکتا وہ فسانا ہوتے

    کوہ و صحرا میں بھی گونجے تو کسی نے نہ سنا

    کیا برائی تھی اگر ساز شکستہ ہوتے

    روتے روتے مجھے کل آیا قفس میں یہ خیال

    جانے کیا ہوتا جو آنسو کہیں شعلہ ہوتے

    کہہ تو سکتے ہے نعیمیؔ کا بھی دنیا میں کوئی

    کم سے کم تم مرا جھوٹا ہی سہارا ہوتے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے