بیٹھے ہوئے ایک ایک کا منہ دیکھ رہے ہیں
بیٹھے ہوئے ایک ایک کا منہ دیکھ رہے ہیں
کہتے پھریں کس کس سے جو دکھ ہم نے سہے ہیں
جی کو تو وہ اچھے لگے پر ان کی عنایت
دکھ ان سے بھلے ہیں کہ مرے ساتھ رہے ہیں
کب تم سے گلہ ہم نے کیا کم نگہی کا
ہاں دیکھنے والوں نے کچھ افسانے کہے ہیں
سمجھانا تو ہم نے بھی بہت چاہا تھا دل کو
دل جیسے دوانے کبھی قابو میں رہے ہیں
ہنسنے سے بھی سنتے ہیں کہ بھر آتی ہیں آنکھیں
اشکوں پہ نہ جاؤ کہ بہر حال بہے ہیں
پھولوں کے کٹوروں سے جہاں چھلکی ہے شبنم
کانٹوں کے بھی آنسو اسی مٹی پہ بہے ہیں
سوچوں کے خزانوں پہ بھی ناگوں کا ہے پہرا
دل چیز ہی کیا ہے یہاں کعبے بھی ڈھے ہیں
پوجو کہ تغافل کرو دنیا ہے یہ لوگو
چڑھتے ہوئے سورج یہاں پل بھر میں گہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.